1 ‌‌صحيح البخاري: كِتَابُ الرِّقَاقِ (بَابُ التَّوَاضُعِ)

أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

6560 حدثني محمد بن عثمان بن كرامة، حدثنا خالد بن مخلد، حدثنا سليمان بن بلال، حدثني شريك بن عبد الله بن أبي نمر، عن عطاء، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الله قال: من عادى لي وليا فقد آذنته بالحرب، وما تقرب إلي عبدي بشيء أحب إلي مما افترضت عليه، وما يزال عبدي يتقرب إلي بالنوافل حتى أحبه، فإذا أحببته: كنت سمعه الذي يسمع به، وبصره الذي يبصر به، ويده التي يبطش بها، ورجله التي يمشي بها، وإن سألني لأعطينه، ولئن استعاذني لأعيذنه، وما ترددت عن شيء أنا فاعله ترددي عن نفس المؤمن، يكره الموت وأنا أكره مساءته

صحیح بخاری :

کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں

(باب: تواضع یعنی عاجزی کرنے کے بیان میں)

شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد (دار السلام)

6560. حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بےشک اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے: جس نے میرے کیسی ولی سے دشمنی کی اس کے خلاف میری طرف سے اعلان جنگ ہے اور میرا بندہ جن جن عبادتوں کے ذریعےسے میرا قرب حاصل کرتا ہے ان میں سے کوئی عبادت مجھے اتنی پسند نہیں جس قدر وہ عبادت پسند ہے جو میں نے اس پر فرض کی ہے۔ میرا بندہ نوافل کے ذریعے سے بھی مجھ سے اتنا قریب ہو جاتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں...

2 ‌سلسلہ احادیث صحیحہ: الايمان والتوحيد والدين والقدر (أسباب حصول القرب من الله ونتائجه، علامات ولي الله وسوء عاقبة من عاداه، بيان صفة «التردد» لله تعالى)

139 - إن الله تعالى قال: من عادى لي وليا فقد آذنته بالحرب، وما تقرب إلي عبدي بشيء أحب إلي مما افترضته عليه، وما زال عبدي يتقرب إلي بالنوافل حتى أحبه، فإذا أحببته كنت سمعه الذي يسمع به وبصره الذي يبصر به ويده التي يبطش بها ورجله التي يمشي عليها، وإن سألني لأعطينه ولئن استعاذني لأعيذنه، وما ترددت عن شيء أنا فاعله ترددي عن قبض نفس المؤمن، يكره الموت وأنا أكره مساءته ".

سلسلہ احادیث صحیحہ : ایمان توحید، دین اور تقدیر کا بیان (قرب الٰہی کے حصول کے اسباب اور نتائج ولی اللہ کی علامتیں اور اس سے دشمنی کرنے والے کا انجام بد، اللہ تعالی کی صفت ”تردد“ کا بیان)

حافظ محفوظ أحمد

139. سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے میرے کسی دوست سے دشمنی کی، میرا اس سے اعلان جنگ ہے، میں نے بندے پر جو چیزیں فرض کی ہیں، ان سے زیادہ مجھے کوئی چیز محبوب نہیں جس سے وہ میرا قرب حاصل کرے (یعنی فرائض کے ذریعے سے میرا قرب حاصل کرنا مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے) اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے سے (بھی) میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے حتی کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں اور جب میں اس سے (اس کے ذوق عبادت، فرائض کی ادائیگی اور نوافل کے اہتمام کی وجہ سے) محبت کرتا ہوں تو (اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ) میں اس کا وہ کان بن ...